
اوریجنل دستاویزی فلمtabii

رنگین فسطائیت
سیزن 1
نئی دستاویزی فلم
انسانی کہانیاں
ہم جنس پرستی کو شدید پراپیگنڈے اور فسطائیت کے ذریعے دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس خصوصی دستاویزی فلم میں اس فسطائیت کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
جنسی و صنفی ارتقاء
منٹ 29
دستاویزی فلم کی اس قسط میں جنس اور صنف، یعنی مردوں اور عورتوں کے حیاتیاتی اور سماجی ارتقائی پہلوؤں کا الہامی اور لبرل نقطۂ نظر سے جائزہ لیا گیا ہے، اس کے علاوہ ماہرینِ انگیزات طبی حوالوں سے مسئلے پر اپنی آراء پیش کرتے ہیں۔
کیا یہ اس قابل ہے؟
منٹ 29
اس قسط میں ہم جنس پرستی کی شناخت اور جدید لبرل عالمی فسطائیت کے تحت اس کی تشہیر کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جنسی شناخت کے تجارتی مفاد کے تحت تبدیلی کے زور پر گفتگو کی گئی ہے اور اس پہلو کے سماج پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نظریے کے معیشت کے ساتھ تعلق پر بھی بات کی گئی ہے۔
سنسر
منٹ 25
اس قسط میں ہم جنس پرست گروہ کی جانب سے استعمال کی جانی والی ابلاغی تکنیک سچ کا تڑکا (ٹروتھ سینڈوچ) کا جائزہ لیا گیا ہے اور دکھایا گیا ہے کہ دراصل یہ فسطائی گروہ مصدقہ علوم مثلاً طب، قانون وغیرہ کو نظر انداز کر کے شخصی پہچان کے نام پر سماجی بیانیہ بدلنے کی کوشش کرتا ہے، اور انسانوں خصوصاً نوجوانوں کے ذہن سے کھیلتا ہے۔
حیلہ
منٹ 26
اس قسط میں ہیجڑوں، ان سے متعلق سماجی رویے، متروک بچوں یا ایسے موضوعات کی ذرائع ابلاغ میں نمائندگی نہ ہونے کو موضوع بنا کر نوجوانوں میں روائیتی سماجی اقدار سے متعلق منفیت اور شناختی ابہام پیدا کرنے کی ترکیب کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ جس کا مقصد فرد کی ذاتی آزادی اور سماجی حدود کے درمیان موجود تناؤ کو مزید بڑھانا ہے۔
کمرے میں موجود ہاتھی
منٹ 27
یہ قسط ہم جنس پرست گروہ کی جانب سے معروف شخصیات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے رحجان کو زیر بحث لاتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی فلمی صنعت خصوصاً ہالی ووڈ کے کرداروں، اس کی انعامی تقاریب کو لیا گیا ہے اور باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے کہ کیسے لبرل تہذیبی یلغار کے تحت جنسی شناخت کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔





